عورت-مارچ

by Maryam
customize read
women have been marching for their rights

گزشتہ کئی د ہائیوں سےعورت مارچ کے نام پر دو گروہوں کے درمیان تنازعہ معمول بن گیا ہے، ایک طبقہ اس کو عورت کا حق  گردان کر زور و شور سے اس میں شریک ہوتا ہے تو دوسری طرف  نام نہاد غیرت مند  طبقہ اِس کو فتنہ و فساد کی جڑ سمجھ کر اس کی تائید کرنے والوں کے خلاف تنقید میں اس قدر آگے بڑھا کہ اخلاق کی ساری حدیں پار کر چکا ہے۔

معاشرے میں مردوں کے ظلم و ستم کا رونا رونے والی خواتین “عورت مارچ” کی  آڑ میں عزت کا جنازہ نکالنے والے پیشواؤں پر اندھا اعتبار کر کے اپنی عفت کو سڑکوں پر برباد کرنے کو تیار ہیں تو دوسری طرف ہمارے غیور مرد اپنی زبانوں کا پر زور استعمال کرتے ہوئے ان پر ایسی اندھا دھند تنقید میں مصروف ہیں کہ “عورت مارچ” کرنے والے مزید تباہی پھیلا رہے  ہیں اور ان کم عقلوں کو ہوش ہی نہیں ہے۔

اگر ان دو گروہوں کو ایک ایک کر کے دیکھا اور سمجھا جائے تو مجھے ان میں سے کوئی بھی حق پر نظر نہیں آتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں دھڑے بات چیت کے فن سے نابلد نظر آتے ہیں۔ نہ تو اپنے حق کے  لئے آواز اٹھانے والی خواتین  حالات کے مطابق فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور نہ ہی اُن پر اِخلاق سےگِری ہوئی گفتگو کرنے والے اُن کو مناسب انداز میں سمجھانے  کی کوشش کرتے ہیں ۔ نتیجتاً آئے دن کے جھگڑے، گھریلو ناچاقی اورعدم اعتماد   جیسے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ مرد خواتین کو آزاد خیال اور ترقی پسند سمجھتے ہیں اور خواتین مردوں کو ظالم، جابر اور حاکمیت پسند خیال کرتی ہیں اس دو طرفہ جنگ میں ہمارے معصوم بچے اور لڑکپن کی عمر کو پہنچنے والے نو بلوغ ذہنی انتشار کا شکار ہو رہے ہیں، معاشرے میں خواتین مردوں کے ظلم و ستم کی ایسی تصویر کھینچتی ہیں کہ سنِ بلوغت کو پہنچی ہوئی لڑکیاں بنا سوچے سمجھے اس مارچ کا حصہ بن کر اپنی اور اپنے خاندان کی عزت پیروں تلے روندنے میں عار محسوس نہیں کرتیں۔ دوسری جانب  جب لڑکے بالےاپنے باپ دادا کو اخلاق کی حدیں پار کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو وہ بھی خود کو ہیرو سمجھتے ہوئے اپنے گھر کی خواتین پر بے جا پابندیاں لگاتے نظر آتے ہیں۔ اِس سے سکون اِس قدرخراب ہو رہا ہے کہ گھر قید خانے بن گئے ہیں ۔ ہم خود کو کس تباہی کی طرف لے  کرجا رہے ہیں ؟؟؟ جن بچوں کو تعلیم دینے  اور معاشرتی اقدار سکھانے کی ضرورت ہے ہم ان کی کچے ذہنوں میں نفرت کی چنگاریاں بھر کر ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو زنگ آلود کر رہے ہیں۔

اِس بحث میں جانے کی بجائے کہ “عورت مارچ” کا آغاز کہاں سے ہوا اور اس کا مقصد کیا ہے ؟میں اس بات پہ زور دیتی ہوں کہ اس کے  اثرات کیا ہیں اور اسے کیسے روکا جائے؟

مارچ کے نام پر سڑکوں پہ بے پردہ نکلنے والی خواتین سے میرا یہ سوال ہے کہ کیا قرآن ان کو نیم برہنہ حالت میں مٹر گشت کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ کیا قرآن انہیں مرد کے مقابلے میں کھڑے ہونے کی اجازت دیتا ہے؟ اللہ نے پردے کا واضح حکم نازل فرمایا کہ “اے نبی مسلمان عورتوں سے کہو کہ باہر نکلیں تو اپنے منہ پر چادر لٹکا لیا کریں تا کہ پہچان لی جائیں اور ستا ئی نہ جائیں۔” حقیقت یہ ہے کہ!اللہ نے تو عورت کی گواہی مرد سے آدھی رکھی ہے اور فرمایا ہے کہ عورت ناقص العقل ہے جلدی بھول جاتی ہے ، کیا کبھی صحابیات نے ایسا کوئی مطالبہ کیا کہ انہیں اصحاب کے برابر حقوق دئیے جائیں؟  تو یہ کم عقل کس زعم میں ہیں؟ کیایہ خود کو اُم المومنین سے زیادہ معتبر خیال کرتی ہیں؟اور ذرا عقل کے گھوڑے دوڑا کر بتائیں کیا انہیں اپنے نام نہاد سیکولر ازم کی رہنمائی میں گزشتہ کئی سالوں کی محنت کے بعد ان کے حقوق ملے یا  ابھی بھی معاملہ کھٹائی میں نظر آتا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ اس اقدام سے معاشرے  میں انتشار ہی بڑھا ہے کیونکہ جب انسان اللہ کی حدود کو توڑتا ہے تو بربادی اس کا مقدر بن جاتی ہے اور یہ خواتین صرف تباہی کی زمہ دار ہیں ۔کم از کم مجھے ایسی کوئی خاتون نظر نہیں آئی جسے اس کے حقوق ملے ہوں بلکہ جگ ہنسائی ہی ہوئی ہے۔ ان سب خواتین کو اپنی اصلاح کی ضرورت ہے تا کہ  خود کو اور اپنی نسلوں کواس غلاظت سے بچا سکیں۔

اسلام کی شہزادیاں اپنےمحرم کے ساتھ پر وقار نظر آتی ہیں۔

میں اگر قرآن کو سمجھنے کی کوشش کروں تو مجھے مرد کے پیچھے رہنے میں عافیت نظر آتی ہے۔مرد کے مشورے میں اپنے مسائل کا حل نظر آتا ہے،  مرد کو عزت دینے میں اپنی عزت محفوظ نظر آتی ہے۔ باپ کے بغیر بیٹی ایک قدم نہیں چل سکتی، بھائی کی معیت میں تحفظ کا احساس ہوتا ہے، شوہر  کی صورت میں زمہ دار انسان کا ساتھ ملتا ہے تو بیٹے کی صورت میں جنت قدموں میں آ جاتی ہے۔پھر جب میں نے یہ جان لیا کہ میں مرد کے بغیر ایک قدم نہیں چل سکتی تو میں مرد کی مان لینے میں اپنی بھلائی سمجھتی ہوں۔ سڑکوں پہ عورت کا تماشہ بنانے والی مردانہ نعمت پر غور کریں گی تو ان مردوں کے خلاف نعرے لگانے والی زبان ان ہی مردوں کی شکر گزار ہو جائے گی۔ یہی شکر گزاری مسائل کاحل ہے۔

اب آتے ہیں ان نام نہاد غیرت مند مردوں کی طرف جو “عورت مارچ” سے تباہی مچانے والی خواتین سے کسی بھی طرح کم نہیں ہیں، بالکل صحیح سنا آپ نے !!! آزادی کے نام پر نعرے لگانے والی خواتین پر بات کرتے ہوئے ان کی زبانیں انگارے چبا رہی ہوتی ہیں، صرف تنقید پہ ہی بس نہیں کرتے بلکہ اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر کہ خود کو درست ثابت کرنے کے لئے  گالم گلوچ پر اتر آتے ہیں اور اس قدر ناشائستہ الفاظ کا چناؤ کرتے ہیں کہ شریف زادیاں ان سے میلوں دور رہ کر ان پر دل ہی دل میں لعن طعن کر رہی ہوتی ہیں اور وہ خواتین جو اپنی عزت کا جنازہ نکال کر گھروں سے نکلی ہوتی ہیں ان کے کان پہ جوں تک نہیں رینگتی بلکہ ان کی اس شجاعت اور دلیری کا فائدہ اٹھا تے ہوئے کچے زہنوں کی معصوم لڑکیوں سے ہمدردی کی آڑ میں مردوں کی اس غیر اخلاقی گفتگو کو ہتھیار بنا کے اپنے عزائم پورے کرنے میں سر گرمِ عمل  ہوتی ہیں، اور یہ غیور  مرد ایک طرف تو شر کو روکنے میں ناکام ہیں تو دوسری طرف اپنی عزتِ نفس کا جنازہ اپنے ہاتھوں سے نکال کر جھوٹی انا کی تسکین لئے پرسکون ہو جاتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنا فرض  ادا کر دیا، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی جذباتی باتیں جلتی پہ تیل کا کام کرتی ہیں اور تباہی پہ مزید تباہی  کا باعث بنتی ہیں ۔ یہ مرد کس مذہب کی بات کرتے ہیں؟ کیا انہیں اسلام کی تعلیمات یاد نہیں؟  کیا ان کو حضرت یوسفؑ  کا واقعہ یاد نہیں جنہوں نے اپنی پاک دامنی کے لئے قید کو ترجیح دی لیکن مصر کی عورتوں کے خلاف نا زیبا  الفاظ نہیں کہے۔ کیا  انہیں محمدﷺ کا واقعہ نہیں یاد کہ کیسے وہ کوڑا پھینکنے والی کے بیمار ہونے پہ تیمارداری کے لئے چلے گئے تھے؟

ان  مردوں کی ذات پہ ایسا کوئی ظلم نہیں ہوا ، ان کو کسی نے دو بدو نہ تو نام لے کے برا بھلا کہا اور نہ ہی ان کے نام کے ساتھ بد کرداری کا کوئی قصہ جوڑا۔ پھر یہ کس لئے آپے سے باہر نظر آتے ہیں ؟ کیا ان کی زمہ داری محض زبان کے استعمال سے اپنی مردانہ انا کی تسکین ہے یا پھر اچھے انداز میں توجہ طلب مسائل کا حل ہے؟ 

سماج کے با اثر اور پر وقار مرد نہ تو گالم گلوچ پہ اترتے ہیں اور نہ ہی با پردہ اور باعزت بیٹیاں  ان بے لگام عورتوں کی طرح آزادی کی آڑ میں بے حیائی کا فروغ چاہتی ہیں۔ وہ اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ نہ تو مردوں کے بغیر معاشرہ چل سکتا ہے اور نہ ہی عورتوں کے بغیر ترقی ممکن ہے،شکوے شکایات ہر جگہ ہوتے ہیں  اور یہ زندگی کا حسن ہیں ،لیکن جہاں طبیعت میں ضد اور خیالات میں پراگند گی آ جائے وہاں  بے حس ااور خود غرض لوگ ان شکایات کو رائی کا پہاڑ بنا کر مسلم رجحانات  کو برباد کرنے کی پر زور کوشش کر رہے ہیں افسوس صد افسوس ! ہم کٹھ پتلیوں کی طرح ان شیاطین کو ان کے مقاصد میں کامیاب کرنے کے لئے اپنی صلاحتیں، قیمتی وقت اور پیسہ سب پرباد کر رہے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں ! کیا ہمیں اپنی اصلاح کی کوشش نہیں کرنی چاہیئے؟

Related Posts

2 comments

Ghulam 43 June 8, 2021 - 3:50 am

عورت مارچ والی عورتوں کو اپنے فعل پر نذر ثانی کی ضرورت ہے
آپ نے بہت اچھا لکھا ہے الل تعالیٰ آپ کو جزا دے آمین

Maryam June 8, 2021 - 5:52 am

Thank you!

Comments are closed.