تبلیغی جماعت کی حقیقت اور فضیلت

by Maryam
تبلیغی جماعت کی حقیقت اور فضیلت

فتنوں کے اَس دور میں جہاں انسانیت گمراہی کا شکار ہے۔ وہاں کچھ متقی اور پرہیز گار لوگ دعوتِ حق کو اپنا فرضِ اول قرار دیتے ہیں۔ وہ تبلیغی جماعت کی حقیقت اور فضیلت کا احترام بھی کرتے ہیں اور اس کی اہمیت اور ضرورت کو محسوس بھی کرتے ہیں۔ اللہ کے یہ سپاہی اپنے گھروں اور گھر والوں کو اللہ کے حوالے کر کے دینِ حق کی سر بلندی کے لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔

تبلیغی جماعت کی حقیقت اور فضیلت

تاریخ گواہ ہے کہ انبیاء نے اپنے ساتھ ایسی جماعت تیار کی جس نے اُن کے وصال کے بعددعوتِ حق کی زمہ داری سنبھالی۔ صحابہ کرام نے ںبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعد احادیث کے ذخیرہ کو اپنے لئے مشعلِ راہ بنایا۔ قران سے رہنمائی لی اور دعوتِ دین کو اپنا شیوہ بنا لیا۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ دین کی سر بلندی کے لئے مسلمانوں نے کیسی کیسی تکالیف اٹھائیں؟

مسلمان قوم کی اصلاح کی خاطر عالمِ دین اجتماع کا اہتممام کرتے ہی رہتے ہیں۔ یہ اجتماعات تبلیغی جماعتوں کے زیرِ نگرانی ہوتے ہیں۔ تبلیغی جماعت کے کارکن کسی کھلی جگہ پریا مسجد میں کیمپ لگاتے ہیں اور علاقے کے لوگوں کو دین کی طرف دعوت دیتے ہیں۔

تبلیغی جماعت کے مراکز کئی جگہوں پر قا ئم ہیں۔ تبلیغی جماعت کا مرکزِ اول دہلی میں بستی نظام الدین اولیاء میں بنگلہ مسجد میں واقع ہے ۔پاکستان میں لاہور شہرکے قریب رائیونڈ میں خاصہ بڑا مرکز قائم ہے۔

تبلیغی جماعت کی ابتدا اور تعارف

تبلیغی جماعت کا قیام 1926ء میں مولانا الیاس کاندھلوی کے ذریعے عمل میں آیا۔ اس کی بنیاد فقہ حنفی (دیو بندی فرقہ) کے مکتبِ فکر پر رکھی گئی۔

اِس جماعت کا بنیادی مقصد مسلمان قوم کو دینِ الہٰی کی اصل روح سے روشناس کروانا تھا۔

مولانا الیاس نے دعوتِ دین کا آغاز دہلی کے مضافات میں ایک باشندے سے کیا۔ اُسے دین کی تعلیم دینے کے دوران مولانا کے زہن میں ایک خیال آیا۔وہ خیال یہ تھا کہ ہمارے ادارے دین کی تعلیم تو دے رہے ہیں لیکن اچھے مبلغ پیدا نہیں کر رہے۔ اسی خیال کے پیشِ نظر انہوں نے اپنا طریقۃ تدریس بدل لیا۔ انہوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ تبلیغ کا کا م بھی شروع کر دیا اور یوں دہلی کے قریب ہی نظام الدین میں تبلیغ کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔

تبلیغی جماعت کا پہلا اجتماع 1941ء میں ہندوستان میں منعقد ہوا جس میں تقریباَ پچیس ہزار افراد نے شرکت کی۔ 1940ء تک یہ جماعت محض متحدہ ہندوستان تک ہی محدود رہی۔ پھر پاکستان اور بنگلہ دیش کے قیام کے ساتھ اس جماعت نے پوری دنیا تک رسائی حاصل کرنے کی جدوجہد شروع کر دی۔ یوں یہ پاکستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، فلپائن اورانڈونیشیاء تک پھیل گئی۔ اب اِس جماعت کے سب سے زیادہ حامی برِ اعظم ایشیاء میں موجود ہیں۔جن میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے زائرین سرِ فہرست ہیں۔

تبلیغی جماعت کی حقیقت اور فضیلت

تبلیغی جماعت ارکانِ اسلام کا دوسرارکن (نماز) ادا کرتے ہوئے

تبلیغی جماعت پر اعتراضات

علمِ دین سے دوری اختیار کرنے والے تبلیغی جماعت پر کئی اعتراضات اُٹھاتے ہیں۔ کبھی اُن کی کارکردگی پر سوال اٗٹھایا جاتا ہے تو کبھی جہاد کے نام پر اُن سے بحث کی جاتی ہے۔ کبھی دین بیزار لوگ اُن کے گھروں سے باہر رہنے پر اعتراض کرتے ہیں تو کبھی اُن پر اپنے خاندان کے نان و نفقہ میں لاپرواہی کا الزام لگایا جاتا ہے۔

لیکن آفرین ہے اللہ کے اِن سپاہیوں پر جنہوں نے ان اعتراضات کرنے والوں سے بحث میں پڑنے کے بجائے اللہ کی رضا کو ترجیح دی۔ یہ لوگ عاجزی کے ساتھ اللہ کے لئے جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی انساینت کوہدایت کا راستہ دکھانے کی کوشش میں اس قدر مصروف ہیں کہ اعتراضات کرنے والوں کو پلٹ کر جواب بھی نہیں دیتے۔ بس اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔

اسلام میں دعوت و تبلیغ کے اصول

مولانا الیاس کاندھلوی کی تبلیغی جماعت میں شامل ہونے کے لئے ایک چھ نکاتی ایجنڈا بنایا گیا۔ اِن چھ نکات کو چھ صفات، چھ اصول اور چھ نمبر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ چھ نکاتی اصول زیل میں درج کئے گئے ہیں۔

  • پختہ ایمان کا ہونا۔
  • نماز کی پابندی کرنا
  • علممِ دین کی پیاس ہونا اور ذکرِ الہٰی میں مشغول رہنا
  • مسلمان امت کے جان و مال کا احترام کرنا
  • نیت میں خلوص ہونا
  • دین کی دعوت و تبلیغ کرنا

اِن سب کے ساتھ ساتھ امر بالمعروف و نہی عنِ المنکر( برائی سے روکنا اور بھلائی کا حکم دینا) پر عمل پیرا ہونا۔

تبلیغی جماعت کی کارگزاری

اُس انسان سے زیادہ خوش نصیب کون ہو سکتا ہے جو اپنا سب سے قیمتی سرمایہ اللہ کی راہ میں خرچ کر دے۔ جب ایک قوم اپنا سرمایہ اللہ کے واسطے خرچ کرتی ہے تو اس کے ثمرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

انسانی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ وقت، صحت اور پیسہ ہے۔ تبلیغی جماعت بفضلِ الہٰی یہ تینوں چیزیں اسلام کی سر بلندی میں صرف کر رہی ہے۔ اللہ کے یہ مجاہد نہ کسی سے مالی مدد لیتے ہیں اور نہ ہی کسی پر بوجھ بنتے ہیں۔ انتہائی اخلاص کے ساتھ اللہ کے دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ان کی بدولت کتنے ہی گمراہ اور بے راہ رو نوجوانوں نے ہدایت کا راستہ اپنایا اور متقی و پرہیز گار بن گئے۔

اللہ پاک اِن دین داروں کی معاونت فرمائیں اور مسلمان قوم کو اِن کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

آمین!

Related Posts

7 comments

Wahab Shah March 21, 2021 - 5:25 pm

boht khub

Maryam afaf March 21, 2021 - 10:16 pm

Jazak Allah!

Rana Rashid M.Rajput April 7, 2021 - 6:37 am

سلامتی ھو آپ پہ

Maryam afaf April 7, 2021 - 8:44 am

Walaikum salam

Shabeer ejaz June 8, 2021 - 3:41 am

ما شا اللہ آپ بھی تبلیغ کا کام ہی کر رہی ہیں اللہ آپ کو جزاے خیر عطا فرمائے آمین

Ghulam 43 June 8, 2021 - 3:44 am

اللہ تعالیٰ آپ پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کے سائے فرمائے آمین

Maryam June 8, 2021 - 5:53 am

Thank You!

Comments are closed.