یومِ پاکستان اور پاکستانی قوم

by Maryam
Pakistan Day 23rd March.یومِ پاکستان اور پاکستانی قوم A map of Pakistan

متحدہ ہندوستان میں حالات خراب ہوئے تو مسلمان رہنماؤں نے پاکستان کے قیام کے لیے کوششیں تیز کر دیں۔ لاہور میں اقبال پارک میں قراردادِ پاکستان منظور ہوئی اور پاکستانیوں نے اِس دن کو یومِ پاکستان کے طور پر منانا شروع کر دیا۔

پاکستان بنانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ ذیل میں اُن وجوہات کو چیدہ چیدہ بیان کیا گیا ہے۔۔

برطانوی حکومت کا قیام اور برصغیر کے حالات:

چھ سو سال تک  مسلمانوں کے بر صغیر پاک و ہند پر حکومت کرنے کے بعد اپنوں کی غداری اور حکمرانوں کی عیاشی کے باعث جب انگریزوں نے ہندوستان کی باگ ڈور سنبھالی تو حالات بے حد خراب تھے۔ دوسرے خطے سے آنے والے حکمران یہاں کے لوگوں کی ذہنیت، زبان اور ضروریات سے ناواقف ہونے کی وجہ سے باقاعدہ نظامِ سلطنت چلانے سے قاصر تھے جس کی وجہ سے  متحدہ ہندوستان کے عوام کا جینا محال ہو گیا، کچھ مکار اور عیار لوگ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے انگریزوں کے اتنا قریب آ گئے کہ اُنہوں نے ساری توجہ اپنی آسائشات اور مراعات کی طرف کروا لی اور اصل حقداروں کو محروم کر دیا۔ نتیجتاً برصغیر میں بسنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد معاشی، اقتصادی، معاشرتی، تعلیمی غرض کہ ہر شعبہ زندگی میں زوال کا شکار ہو گئی اور زندگی کی بنیادی ضروریات کے شدید فقدان کا سامنا کرنے لگی۔ استحصالی طبقہ امراء کی فہرست میں شامل ہو گیا اور کمزور طبقہ دو وقت کی روٹی کے لئے ترسنے لگا۔ نہ اُن کی عزتیں محفوظ رہیں، نہ ہی معاشرتی حقوق!

مسلم رہنماؤں کی کوششیں:

 ایسے حالات میں غریب عوام کو استحصال  کی چکی سے نکالنے کے لئے  دردِ دل رکھنے والے بہت سے رہنماؤں نے حالات کی درستگی کا بیڑہ اُٹھایا اور عوام الناس کو زندگی کے اصل ڈھب پر لانے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔ انگریز حکومت کے آغاز میں مسلمان رہنماؤں نے ہندوؤں کے ساتھ مل کر  حالات کو  بہتر کرنے کی کوشش کی لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ مسلم رہنماؤں نے ہندوؤں کا تعصبانہ رویہ دیکھا تو انہوں نے ہندوؤں کی مدد چھوڑ کر صرف مسلمانوں کے حقوق کے لئے اپنی کوششیں تیز کر دیں۔  

مسلمان رہنماؤں میں سر سید احمد خان  نے مسلمانوں کی تعلیمی حالت کو درست کرنے کا بیڑہ اٹھایا، علامہ محمد اقبال نے مسلم قوم کو خوابِ غفلت سے جگانے کے لئے شاعری کو اپنا ہتھیار بنایا، قائداعظم محمد علی جناح جیسے عظیم لیڈر نے مسلمانوں کو خطے میں بنیادی حقوق دلوانے کے لئے اپنی فہم و فراست اور دانشمندی  سے کام لیتے ہوئے اپنے روزو شب مسلمانوں کی فلاح و بہبود میں لگا دئیے۔ ان جیسےسینکڑوں  مخلص، دانشور اور محنتی رہنماؤں کی معیت میں ہم پاکستان جیسی مملکت حاصل کرنے میں کامیاب ہو ئے۔

مسلم لیگ کا اجلاس، قراداد کی منظوری اور یومِ پاکستان:

مسلم لیگ کا اجلاس 22  تا 24 مارچ 1940ء میں لاہور کے اقبال پارک میں ہوا جس میں مسلمانوں کی طرف سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے ان سب کو ملا کر ایک الگ ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے ، جہاں مسلمان مذہبی طور پر آزاد ہوں اور خوشحال زندگی گزار سکیں۔   قائد اعظم نے اس اجلاس کے آغاز میں یہ نقطہ واضح کر دیا کہ      ” ہندوستان میں مسئلہ فرقہ وارانہ نوعیت کا نہیں ہے بلکہ دو قوموں کا مسئلہ ہے جو رنگ، نسل، مذہب اور ثقافت کے اعتبار سے بالکل جداگانہ حیثیت رکھتی ہیں اور ایک دوسرے میں ضم نہیں ہو سکتیں۔” انہوں نے کہا کہ ’’ہندوؤں اور مسلمانوں میں فرق اتنا بڑا اور واضح ہے کہ ایک مرکزی حکومت کے تحت ان کا اتحاد خطرات سے بھر پورہوگا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس صورت میں ایک ہی راہ ہے کہ دونوں قومیتوں کی علیحدہ مملکتیں ہوں‘‘۔ انگریز حکومت نے یہ مطالبہ  مان لیا اور سات سال کی جدوجہد کے بعد مسلمان پہلی  اسلامی جمہوری  ریاست حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ 23 مارچ کو اِسی قرارداد کی منظوری کی یاد میں یومِ پاکستان منایا جاتا ہے۔

یوم پاکستان یا یوم قرارداد ، یوم جمہوریہ ، پاکستان میں قومی تعطیل ہے جس کو 23 مارچ 1940 کو منظور کی جانے والی لاہور کی قرارداد کی یاد میں منایا گیا

پاکستانی آئین کا نفاذ اور یومِ پاکستان بطورِ تہوار:

 1956ء سے پہلے تک ایسا کوئی بھی دن 23 مارچ کے حوالے سے نہیں منایا گیا۔ 23 مارچ 1956 ءکو پاکستان میں پہلا آئین اپنایا گیا۔  اسکندر مرزا وزیرِ اعظم سے صدر کے  عہدے پر فائز ہوئے، 1957-1958ءمیں 23 مارچ کے دن کو  اسلامی جمہوری  دن کے طور پر بڑے جوش و خروش سے منایا گیا۔اکتوبر 1958 ء میں مارشل لاء نافذ ہوا اور جمہوری اقتدار ختم ہو گیا۔ 1959ء میں چونکہ ملک میں مارشل لاء تھا لہٰذا جمہوری دن منانے کا کوئی جواز نہیں تھا  اسی وجہ سے یہ دن یومِ پاکستان کے طور پر منایا جانے لگا۔ 23 مارچ کو پوری پاکستانی قوم عام تعطیل مناتی ہے اور اس دن کو اپنے لئے قومی تہوار سمجھتی ہے۔

:یومِ پاکستان کی تقریب

اس دن پر اسلام آباد میں افواجِ پاکستان کی پریڈ ہوتی ہے  ، صوبوں کی ثقافت نمایاں کی جاتی ہے اور ہتھیاروں کی نمائش ہوتی ہے، ملی نغمے گائے جاتے ہیں، ملک و قوم کی سلامتی کے لئے  خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں اور قوم کو یکجہتی کا درس دیا جاتا ہے۔ اس تقریب میں صدر اور وزیرِ اعظم پاکستان، افواجِ پاکستان کے سربراہ بطور مہمان شرکت کرتے ہیں ، پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے اعلیٰ عہدیداران  بھی شامل ہوتے ہیں اور اس پر رونق اور پرجوش تقریب کا حصہ بنتے ہیں۔

یادِ ماضی:

یہ دن ہمیں اپنوں کی لازوال قربانیوں اور مدبرانہ صلاحیت رکھنے والے رہنماؤں کی یاد دلاتا ہے ، یہ ہمیں باور کراتا ہے کہ لاہور کے مینارِ پاکستان کے قریب کس قدر مضبوط اور حوصلہ مندلوگوں کی بیٹھک ہوئی تھی جو تین دن کے قیام کے بعد اپنا حق وصول کرتے ہوئے  ایک نئے جذبے کے ساتھ وہاں سے دستبردار ہوئی اور اپنی آنے والی نسلوں کے لئے سہانے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے  پہلے سے زیادہ پرجوش اور طاقتور ہو گئی۔وہ مسلمان جو ظلم کی چکی میں پِس رہے تھے، نڈر اور بے باک ہو گئے۔ اور اپنے خواب کی تعبیر پانے کے لئے قائد کی سربراہی میں چست و توانا اپنی قوت کو بروئے کار لائے ہوئے منزل کے حصول میں پوری طرح کامیاب ہو چکے تھے۔ اسلامی سلطنت کے یہ درخشندہ ستارے روزِ محشر تک آسمان پر چمکتے رہیں گے۔

چمنِ پاکستان اور بہاریں:

ہم اپنے گھروں میں ، اپنے بزرگوں کی یاد کی شمع دل میں جلائے ہوئے اپنے بچوں کو فخر سے پاکستان کے قصے سناتے ہیں، اپنی افواج کی عزت کرتے ہیں اور اپنی نسلوں کے ذہنوں میں  اس کی حفاظت اور آبرو پر جان نثار کر دینے کا جذبہ اُبھارتے ہیں ۔ تبھی تو ہمارا ہر دوسرا بچہ اپنی آنکھوں میں  فوجی بننے کا خواب سجا لیتا ہے۔ اِس  ملک کی مٹی اتنی پیاری ہے کہ یہاں محبتیں  جنم لیتی ہیں، یہاں بہاروں کا راج ہے، یہاں احساس کی ہوا چلتی ہے اور احسان گنگناتے ہیں ۔  اللہ اِس دھرتی کو ہمیشہ قائم رکھے، اِس مملکت کو ہر دشمن سے محفوظ رکھے اور اِس کا ذرہ ذرہ تابندہ ہو، یہ چمن قیامت تک آباد رہے ، رنگ برنگے پھولوں کی خوشبو سے مہکتا رہے، اپنے وقار کو سلامت رکھےاور مسلم دنیا کی قیادت کرتا رہے۔ آمین!

پاکستان زندہ باد!

Related Posts

1 comment

Pakistan Resolution Day 23rd March 1940 - seo Maryam afaf March 16, 2021 - 5:57 am

[…] were the reasons behind the creation of Pakistan? I am going to share some reasons for this. This post has also been written in the Urdu […]

Comments are closed.